کلام کی طاقت

DAILY DEVOTIONS IN URDU

8/24/2023

مبارک ہیں وہ جو کامل رفتار ہیں جو خداوند کی شریعت پر چلتے ہیں (زبور ۱۱۹: ۱ )

بائبل مقدّس کی یہ آیت’’ کامل ہونے کے لئے شریعت پر چلنے‘‘ پر زور دیتی ہے۔ کلام مقدّس اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ خداوند کا کلام فاتح ہے ۔کلام ہر دور میں ہر جگہ جہاں جہاں خداوند کے لوگ اسکے پرچار کے لئے جاتے فتح مندی پاتے۔پرانے عہد نامہ کے مقدّسین میں بزرگ داؤد ، مر دکی ، دانی ایل اور دیگر مقدّس ہستیوں کو جب جب شدید مخالفت کا سامناہوتا تو خدا کے کلام کے وسیلہ ہی فتح یابی ممکن ہوتی۔ ان کی فتح مند ی کا انحصار کلام کو محض یاد رکھنے پر نہیں بلکہ اسکی مشق پر تھا۔ اگر ان کا انحصار صرف اُسے یاد رکھنے پر ہی ہوتا تو ایسے تو اِبلیس بھی کلام کو جانتا ہے۔ یاد رکھیں مسیح خداوند نے بھی اپنی زمینی خدمت میں کلام ِخدا کا استعمال کرتے ہوئے ابلیس کی طرف سے پیش کی گئی آزمائشوں کا منہ توڑ جواب دیا۔ گوکہ اِبلیس نے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے یسوع مسیح کو اپنی ناپاک چالوں میں بھانسنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یسو ع مسیح باوجود بھوک ، تھکے ماندے اور بیابان میں چالیس روز گزارنے کے باوجود ہر آزمائش پر فاتح رہا۔یسوع کی فتح کا دارومدار اسکے الہٰی ہونے کے ساتھ ساتھ کلام کو نہ فقط تھیک طور سے بتانے بلکہ خود کلام پر عمل کرنے پر بھی تھا۔

خدا کے بندے مقدّس پولس کامشنری سفر مشکلات اور دکھوں سے خالی نہ تھا لیکن وہ ہمیشہ کلام کے پرچار کے لئے تیار رہتا۔ وہ نہ فقط اسکے سنانے یا سننے پر زور دیتا بلکہ سنے گئے کلام پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم بھی دیتا تھا۔

میرے عزیزو! کلام کی طاقت کا اندازہ وہ ہی لگا سکتا ہے جس نے اُسے اپنے دل میں رکھا ہے۔ کیونکہ کلام ِ خدا اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کلام کو سن کر اس پر عمل کرنے والا ہی ناممکن حالات میں بھی ہر طور سے فتح پاسکتا ہے۔ اسکی مثال آپکے اپنے پیشہ سے لی جاسکتی ہے۔ اگر آپ استاد ہیں، فیکٹری میں کام کرنے والے ہیں یا کسی بھی پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں اسکی مہارت کا انحصار اُسکی مشق کرنے پر ہے۔

غور کیجیے !

آج اِبلیس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ وہ صرف لوگوں کو کلام سننے پر ہی آمادہ رکھے وہ قطع َنہیں چاہتا کہ یسوع کے پیروکار اسکی مشق کریں ۔ جب جب ہم کلام کو سن کر اس پر عمل نہیں کرتے ہماری روحانی حالت بگاڑ کا شکار رہتی ہے لیکن جیسے ہی ہم اسے سُن کر اپنی زندگیوں کا حصّہ بنالیتے ہیں تو ا ِبلیس اور اسکے جلتے ہوئے تیِروں کو بجھا سکتے ہیں(افسیوں ۶: ۱۶ )۔

آئیے ! اپنے آپ کو جانچیے کہیں آج میری حالت اس شخص جیسی تو نہیں جو اپنے آپ کو شریعت پرعمل کرنے کا دعویدارسمجھتا تھا اور کامل ہونے کی غرض سے یسوع کے پاس آیا مگر یسوع کے کہنے پر اپنا مال واسباب بیچ کر غریبوں کو دینے کو تیار نہ ہوا ( متّی ۱۶:۱۶۔۲۲)۔ اسے یسوع نے کلام کی طاقت کے وسیلہ اپنی ایمانی مشق کا موقع فراہم کیا لیکن افسوس وہ اُسے کھو بیٹھا۔آج کہیں میری اور آپ کی حالت تو ایسی نہیں ؟

آئیے! آج پاک روح کو موقع دیں کہ وہ ہم پر ظاہر کرے کہ وہ کون سا ایسا حکم ہے جسے خداوند نے برسوں پہلے عمل پیرا ہونے کے لئے کہا تھا لیکن میں نے آج تک صرف اسے سنا لیکن عمل نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے یہ آپکی پرانی جھوٹ بولنے ، گالی گلوچ کرنے، یا نشہ کرنے کی لت ہو۔ اے بہن اے بھائی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مطالبہ کرتا ہوکہ جتنا وقت تجھے میرے ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے وہ وقت تو مجھے نہیں دیتا۔ آج خداوند آپکو اس کلام کے وسیلہ اپنے تما م احکام پر عمل پیرا ہونے اور ہر اس اِبلیسی رکاوٹ کو جو اسکے کام کو روکے ہوئے ہے چھوڑنے کا موقع فراہم کرے۔ آمین

Related Stories